0

فلسطین سفارتی تنازع: کولمبیا نے اسرائیلی سفیر کو ملک چھوڑنے کا کہہ دیا

کولمبیا نے فلسطین کے معاملے پر سفارتی تنازع کے بعد اسرائیل کے سفیر کو ملک چھوڑنے کا کہہ دیا۔

کولمبیا کے صدر گسٹاوؤپیٹرو نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کا یہودیوں پر نازی  ظلم و ستم سے موازنہ کیا تھا۔

پیٹرو نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ پر غزہ کے لوگوں کے بارے میں ویسی ہی زبان استعمال کرنے کا الزام لگایا جو ’نازیوں نے یہودیوں کے لیے استعمال کی تھی‘۔

7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیلی اڈوں اور بستیوں پر حملہ کیا تھا جس میں 1400 سے زائداسرائیلی ہلاک ہوئے، اس حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر شدید بمباری شروع کر دی جس میں 2800 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں ایک ہزار سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔

کولمبیا کے پہلے بائیں بازو کے صدر نے سوشل میڈیا پر غزہ کے اسرائیلی محاصرے کو نازی جرمنی کے اقدامات سے  تشبیہ دی اور زور دے کر کہا کہ ’جمہوری لوگ بین الاقوامی سیاست میں نازی ازم کو دوبارہ قائم کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے‘۔

صدر پیٹرو نے کہا کہ ان کا ملک’نسل کشی‘کی حمایت نہیں کرتا۔

کولمبین صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر کولمبیا کو اسرائیل کے ساتھ خارجہ تعلقات کو معطل کرنا ہے تو ہم انہیں معطل کر دیتے ہیں۔

اس بیان پر اسرائیلی وزارت خارجہ نے اتوارکولمبیا کی سفیر مارگریٹا منجریز کو طلب کیا اور انہیں اسرائیلی سکیورٹی برآمدات روکنے کے فیصلے سے آگاہ کیا۔

یاد رہے کہ کولمبیا گزشتہ دو دہائیوں سے لاطینی امریکا میں اسرائیل کا قریبی دوست ہے لیکن اُس کے اسرائیل اور فلسطین دونوں ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں۔

کولمبیا میں اسرائیلی سفیر اور صدر پیٹرو کے درمیان سوشل میڈیا پر لفظی جنگ کا آغاز ایک ہفتہ قبل اس وقت ہوا جب کولمبین صدر نے حماس کے حملوں کی مذمت سے انکار کیا۔

جب اسرائیلی سفیر گالی ڈگان نے صدر پیٹرو سے ’دہشتگرد حملے‘ کے بارے میں بات کرنے کا کہا تو کولمبین صدر نے اپنے ردعمل میں کہا: ’دہشتگردی معصوم بچوں کو مارنا ہے، چاہے وہ کولمبیا میں ہو یا فلسطین میں‘۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ کو ایک ’حراستی مرکز ‘میں تبدیل کر دیا ہے۔

اس کشیدگی کے بعد کولمبین وزیر خارجہ الوارو لیوا نے کہا ہے کہ اسرائیلی سفیر کو ’کم سے کم معافی مانگ کر چلے جانا چاہیے‘۔

لیوا نے سوشل میڈیا پر پیٹرو کے بارے میں اسرائیل کے ردعمل کو ’شرمناک‘قرار دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں